شہر میں کانگو وائرس سے متاثرہ تیسرا شہری انتقال کر گیا ہے۔ 28 سالہ زبیر لکھیو، جو لانڈھی کا رہائشی تھا، جناح اسپتال میں زیر علاج تھا، لیکن بیماری کی شدت کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکا۔ رواں سال جون میں کراچی میں کانگو وائرس سے دو اموات ہو چکی ہیں، جبکہ جولائی میں بھی 33 سالہ شخص میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔کراچی میں کانگو وائرس کا پہلا کیس 16 جون 2025 کو رپورٹ ہوا تھا، جب 42 سالہ عبدالرؤف، ضلع ملیر کا رہائشی، انڈس ہسپتال کورنگی میں زیر علاج انتقال کر گیا تھا۔ دو دن بعد، 19 جون کو 22 سالہ زبیر لکھیو ابراہیم حیدری کا رہائشی وائرس کے باعث چل بسا تھا۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مرحلے میں زبیر کو موت سے ایک ہفتہ قبل سندھ انفکشس ڈیزیز ہسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں لایا گیا، جہاں علاج کے باوجود وہ بچ نہ سکا۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق کانگو وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر متاثرہ شخص کے خون، اعضا یا دیگر جسمانی مادّوں کے قریبی رابطے سے۔ اس وائرس کی علامات میں شدید بخار، پٹھوں اور کمر میں درد، چکر آنا، گردن میں اکڑن، سر درد، آنکھوں میں جلن اور روشنی سے حساسیت شامل ہیں۔ صحت حکام نے شہریوں سے صفائی، کیڑوں سے بچاؤ اور متاثرہ افراد سے براہِ راست رابطے سے گریز کی ہدایت کی ہے تاکہ مزید اموات سے بچا جا سکے۔







Discussion about this post