کراچی کی حالیہ طوفانی بارش نے ایک بار پھر شہر کے انفراسٹرکچر کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
پیپلز پالٹی کی سیاہ کاریاں
*کریم آباد کھنڈر پاس*
عثمان میموریل ہاسپٹل سے مینا بازار جانے والا راستے پر بارش کی وجہ سے بڑا گڑھا بن گیا ہے جس میں ایک گاڑی اور بائیک بھی گری ہے -!!!’ pic.twitter.com/MNiiulvdEA
— زاھد منصوری (@ZahidMansori) April 2, 2026
موسلا دھار بارش کے چند گھنٹوں بعد ہی اہم سڑکیں اور انڈر پاس جھیلوں میں تبدیل ہو گئے، جیسے شہر میں نکاسی آب کا کوئی نظام موجود ہی نہ ہو۔ سڑکیں جگہ جگہ بیٹھ گئیں، گاڑیاں پانی میں دھنسی ہوئیں اور لاکھوں شہری گھنٹوں تک ٹریفک کی بے بسی میں پھنسے رہے۔
کراچی میں بارش رحمت کی بجائے زحمت بن گئی
سندھ حکومت کے لیے سوالیہ نشانشہری ٹریفک متاثر ہونے اور کھڑے پانی کے باعث دوہری اذیت کا شکار
PPP Exposed Again #پیپلزپارٹی_نےکراچی_ڈبو_دیا pic.twitter.com/vSVpwsPaKn— sanah khamisani GFX artist 🇵🇰🇵🇸 (@sanahkhamisani) April 2, 2026
کئی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا، جس سے شہریوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بارش نہ صرف ٹریفک کو مفلوج کر گئی بلکہ شہر کی روزمرہ زندگی کو بھی شدید متاثر کر کے رکھ دیا۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کا غم و غصہ خوب جھلک رہا ہے۔
بس دعا کریں کراچی میں بارش نہ ہو۔ pic.twitter.com/vcWOZnKHCi
— Naimat Khan (@NKMalazai) April 2, 2026
ایک صارف نے لکھا کہ دوسرے شہروں میں بارش کے بعد لوگ ریمبو کے دلکش مناظر کی عکس کشی کرتے ہیں، مگر کراچی والے زمین پر گندگی اور اوپر تاروں کے جال کی تصویر کھینچتے ہیں۔ ایک اور صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بارش نے جگہ جگہ موت کے کنوئیں کھول دیے ہیں۔ بڑے بڑے گڑھوں میں گاڑیاں پھنس رہی ہیں اور سڑکیں خطرناک حفرے بن چکی ہیں۔
Excuse me sir, why a single point is taking water into drain? Previously there were huge drains passing by n under shahrah e faisal, why they got closed? Are the askarj colonies more important than city infrastructure? https://t.co/YrhrJhcH08
— n 🇵🇸 (@doctorbatsunen) April 2, 2026
جنید رضا نے ایک ویڈیو میں دکھایا کہ بسیں سڑکوں میں دھنسی ہوئی ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے پوچھا کہ یہی وہ سڑک ہے جس کا 17 مارچ کو میئر کراچی ٹویٹ کر کے کریڈٹ لے رہے تھے۔ صرف پندرہ دن بعد یہ سڑک دھنس گئی۔ اب وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ کنٹونمنٹ ایریا ہے۔ تو پھر کریڈٹ لینے کے لیے ویڈیوز کیوں شیئر کیں؟
یہ وہی روڈ ہے وہی مقام ہے جس کا 17 مارچ کو میئر کراچی ٹوئٹ کرکے کریڈٹ لے رہے تھے ، آج پندرویں روز یہ سڑک دھنس گئی ۔ اب میئر صاحب اور ان کی ٹیم کہہ رہی ہے کہ یہ کنٹونمنٹ ہے تو آپ روڈ ڈلواکر ویڈیوز ڈال کر کریڈٹ کیوں لیتے رہے ؟
بقول شاعر ” جان جاں موت نہیں شرم تو آتی ہوگی ” https://t.co/fjWi50Gn3L pic.twitter.com/DXIXuTSgsR— Junaid Raza Zaidi (@junaidraza01) April 2, 2026
شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے دعوے صرف کاغذوں تک محدود رہ گئے ہیں۔ حقیقت میں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، سیوریج کا نظام ناکارہ اور نکاسی آب کی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔
کراچی میں بارش نے جگہ جگہ موت کے کنوئیں کھول دیے۔
طبہ سینٹر کے پاس کا منظر pic.twitter.com/Ub0iMdr6YF— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) April 2, 2026
ایک صارف نے لکھا کہ کراچی میں بارش اب رحمت نہیں بلکہ زحمت بن چکی ہے۔ یہ سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ شہری ٹیکس دیتے ہیں، ملک کی معیشت کو چلاتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں ملتا کیا ہے؟
کراچی ڈوب گیا
درمیانے درجے کی بارش نے بے اختیار بلدیاتی نظام کا کچا چٹھا کھول دیا، کھنڈر شاہراہیں تالاب بن چکی،
جعلی بلدیاتی مینڈیٹ کے ذریعے شہر پر مسلط کیئے گئےپپلے مئیر عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے۔@ARYNEWSOFFICIAL @BBCUrdu @Dawn_News @DunyaNews @geonews_urdu pic.twitter.com/9adtD8L9tY— زاھد منصوری (@ZahidMansori) April 2, 2026
بارش ہر بار یہی سوال چھوڑ جاتی ہے کہ کراچی جیسے بڑے اور اہم شہر کا انفراسٹرکچر اتنا کمزور کیوں ہے؟ یہ بارش محض ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ شہر کی بدانتظامی اور نااہلی کا ایک اور کڑا ثبوت بن کر سامنے آئی ہے۔







Discussion about this post