اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی پی ٹی آئی کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ جیل کے اندر سے آپریٹ نہیں ہو رہا۔ سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کے مطابق بانی پی ٹی آئی سخت نگرانی میں رکھے گئے ہیں اور ان کے پاس نہ موبائل فون ہے اور نہ ہی کوئی ممنوعہ ڈیوائس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے اندر موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہے، جبکہ جیل کے اندر اور اطراف کے علاقوں میں سگنلز جام کرنے کے لیے جیمرز نصب ہیں، لہٰذا کسی قیدی کے لیے آن لائن سرگرمی میں ملوث ہونا ممکن ہی نہیں۔ سپرنٹنڈنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاسی نوعیت کی ہدایات نے ماضی میں کئی بار معاشرے میں شدت اور بے چینی پیدا کی، جبکہ جیل رول 265 واضح طور پر قیدیوں کو سیاسی گفتگو سے روکتا ہے۔ اس کے باوجود جیل ٹرائل کے دوران ہونے والی فیملی اور وکلا ملاقاتوں میں کبھی کبھار سیاسی گفتگو کی خلاف ورزی دیکھنے میں آتی ہے۔

جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ یقیناً جیل کے باہر موجود کسی فرد یا ٹیم کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، کیونکہ جیل میں نہ موبائل فون کی اجازت ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو صرف وہ سہولیات میسر ہیں جو جیل رولز اور عدالتی احکامات کے مطابق فراہم کی جاتی ہیں۔ یوں سپرنٹنڈنٹ کے بیان نے واضح کر دیا کہ بانی پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ جیل سے نہیں بلکہ باہر سے آپریٹ ہو رہا ہے، اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات حقائق کے برعکس ہیں۔







Discussion about this post