نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ 20 نکات پاکستان کے موقف کی ترجمانی نہیں کرتے، اور فلوٹیلا میں شامل پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں نہ صرف قوم کی بھرپور نمائندگی کی بلکہ کشمیر کے ساتھ فلسطین کے مسئلے کو بھی عالمی سطح پر اٹھایا۔ وہاں اسرائیل کی مذمت کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی مسائل پر بھی بات کی گئی۔ نائب وزیراعظم نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی گزشتہ قراردادیں، او آئی سی کی قراردادیں اور عرب ممالک کی کوششیں غزہ میں جاری خونریزی روکنے میں ناکام رہی ہیں، لہٰذا پاکستان نے کچھ ممالک کے ساتھ مل کر امریکی صدر سے رابطہ کیا تاکہ اس انسانی بحران کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں پاکستان، ترکی، انڈونیشیا اور 5 عرب ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی، اور اس دوران امریکی صدر نے مسئلے کے حل کے لیے مثبت ردعمل دیا۔ اس ملاقات میں کسی ذاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا بلکہ تمام رہنماؤں نے انسانی ہمدردی اور عملی حل پر زور دیا۔
اسحٰق ڈار نے زور دیا کہ مذاکرات اور افہام و تفہیم ہی مسائل کا واحد حل ہیں اور الزام تراشی کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں۔ اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے معافی مانگنے سے انکار کے بعد واک آؤٹ کیا، تاہم بعد میں حکومتی ٹیم کی بات ماننے پر وہ دوبارہ ایوان میں واپس آگئے۔ دریں اثنا، اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری میں احتجاج کرتے ہوئے آزادی اظہار رائے کا مطالبہ کیا۔







Discussion about this post