اسلام آباد کے علاقے جی-ایلیون میں کچہری کے باہر خودکش دھماکے نے دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں پانچ شہری شہید اور تیرہ سے زائد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دھماکے میں بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی گروپ فتنۃ الخوارج ملوث ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دھماکا کچہری کے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں ہوا، جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔ مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا ہے۔دھماکے کے فوری بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے میں وکلا بھی زخمی ہوئے ہیں۔ کچہری کی عمارت خالی کرائی گئی، وکلا، ججز اور سائلین کو جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے کی طرف منتقل کیا گیا تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت اور شدت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دھماکے کی آواز شہر کے مختلف حصوں میں سنائی دی اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ حملہ اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔







Discussion about this post