ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح پیغام دیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، مگر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لہروں کے سامنے ہر ممکن دفاعی اقدام کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے مؤثر بیان میں کہا کہ ایران اپنے مخالفین پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں رکھتا۔ دشمن کی چالوں سے ہمیشہ محتاط رہنا پڑتا ہے، کیونکہ جنگ کا سایہ کسی بھی لمحے گہرا ہو سکتا ہے۔ قالیباف کا یہ دو ٹوک موقف خطے کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف سفارتی دروازے کھلے رکھے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب قومی سلامتی کی حفاظت کے لیے پوری قوت سے تیاریاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات اہم ہیں، مگر وطن کی عزت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر وہ قدم اٹھانا ناگزیر ہے جو حالات کا تقاضا کرے۔ ماہرین اسے ایران کی هوشمندانہ پالیسی قرار دے رہے ہیں — "مذاکرات بھی، تیاری بھی”۔ تہران نہ صرف امن کی راہ تلاش کر رہا ہے بلکہ اگر تصادم کی آگ بھڑک اٹھی تو اسے بھرپور جواب دینے کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔ یہ بیان محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک پراعتماد قوم کا بلند آہنگ اعلان ہے جو دنیا کو بتا رہا ہے: ہم امن چاہتے ہیں، مگر کمزور نہیں ہیں۔








Discussion about this post