ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ نازک صورتحال میں ایک اہم اور واضح پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ تاہم صدر پزشکیان نے دشمن کو بھی واضح طور پر خبردار کیا کہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنے یا اسے سرنڈر پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو جائے گی۔ ان کا یہ بیان ایران کی قومی عزت اور خودمختاری کے تحفظ کا ایک مضبوط اعلان ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ معاہدے کے لیے ایران پاکستان آ سکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے اگر ایک اور اہم ملاقات ہوئی تو اس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے خود اشارہ کیا ہے کہ اگلے دو دنوں میں بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ صدر پزشکیان کا یہ بیان نہ صرف ایران کی پرامن پالیسی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ملک اپنے وقار اور مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان یہ بیان ایک طرف امید کی کرن دکھاتا ہے تو دوسری طرف ایران کے پختہ موقف کو بھی دنیا کے سامنے رکھتا ہے۔







Discussion about this post