مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، اور ایران نے ایک بار پھر دشمن کو زبردست چیلنج دے دیا۔ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمتی محاذ اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، متحد اور منظم ہو چکا ہے۔ ان کے بقول، دشمن اس بار بھی خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہو گا۔ قاآنی نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ مزاحمتی قوتیں پورے خطے میں پوری طرح فعال ہیں اور کسی بھی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ انہوں نے ماضی کے تجربات کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر میں ملنے والی ناکامیوں سے سبق سیکھ لینا چاہیے۔ ان کا واضح پیغام یہ ہے کہ اس بار بھی دشمن کے عزائم خاک میں مل جائیں گے، کیونکہ مزاحمتی محاذ کی طاقت اور اتحاد ناقابل تسخیر ہے۔ دوسری جانب، امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کرنے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ٹکراؤ سے خطے میں بڑا طوفان اٹھ سکتا ہے جس کے عالمی اثرات دور دور تک پھیل سکتے ہیں۔ ایک طرف دھمکیوں کی آگ، دوسری طرف مزاحمت کی لو، اور درمیان میں ایک ایسا خطہ جو تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔








Discussion about this post