ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا آسمان آگ اور دھوئیں سے بھر گیا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر طوفانی پیشگی حملہ کر دیا، جس نے شہر کو شدید دھماکوں کی لپیٹ میں لے لیا۔ تہران کے مرکزی علاقوں میں، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ ایریا پر متعدد میزائل گرائے گئے، جہاں سے سیاہ دھوئیں کے گہرے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دکھائی دیے۔ مہرآباد ایئرپورٹ بھی نشانہ بنا، جہاں شعلے بھڑکتے نظر آئے، اور شہر بھر میں ہنگامی سائرن گونج اٹھے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے، انہیں فوری طور پر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ وزیر اطلاعات اور ایوان صدارت سمیت کئی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے افراتفری کی لہریں پورے شہر میں پھیل گئیں۔ یہ پہلی لہر تھی، اور اطلاعات ہیں کہ اگلے چار دنوں تک مربوط حملے جاری رہیں گے، جو تہران کی صورتحال کو مکمل طور پر بدل دیں گے۔اسرائیلی وزیر دفاع نے واضح طور پر اعلان کیا کہ یہ مشترکہ اسرائیلی-امریکی کارروائی ہے، جو مہینوں کی منصوبہ بندی کے بعد شروع کی گئی۔ مقصد ایران کے ممکنہ خطرات کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔
ISRAEL LAUNCH ‘PRE-EMPTIVE STRIKE’ ON TEHRAN — RT EXCLUSIVE FOOTAGE pic.twitter.com/UOmD66Mk1Q
— RT (@RT_com) February 28, 2026
حملے کی شدت کے جواب میں اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بند کر دی، ایمرجنسی نافذ کی، اسکول بند کر دیے، اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت جاری کی۔ایران نے فوری طور پر اپنی فضائی حدود سیل کر دیں، جبکہ عراق نے بھی اربیل سمیت تمام ایئر ٹریفک معطل کر دیجیسے پورا خطہ خوف کے سائے میں ڈوب گیا ہو۔ یہ محض ایک تصادم نہیں، بلکہ ایک بڑے طوفان کا آغاز ہے جو علاقائی نقشے کو آگ اور خون سے نئے سرے سے رقم کر رہا ہے۔ تہران کی گلیاں ابھی دھماکوں کی بازگشت سے گونج رہی ہیں، اور دنیا سانس روکے دیکھ رہی ہے کہ یہ شعلہ کس قدر پھیلے گا۔
BREAKING:
Israel is currently striking Iran’s capital, Tehran. pic.twitter.com/xQ3lZSQm5h
— Globe Eye News (@GlobeEyeNews) February 28, 2026







Discussion about this post