وائٹ ہاؤس نے ایران کو ایک واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے پاس صرف سفارتکاری کے نہیں بلکہ دیگر طاقتور آپشنز بھی موجود ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کل عمان کے دارالحکومت مسقط میں اہم مذاکرات شیڈول ہیں، جو عالمی سطح پر سنجیدگی کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔ پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے سخت لہجے میں کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں اپنے موقف میں مکمل طور پر غیر متزلزل ہیں اور ہر ممکنہ نتیجے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا ایران کے ساتھ کوئی عملی اور باوقار معاہدہ ممکن ہے یا نہیں، مگر امریکا ہر صورت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام راستے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کیرولین لیوٹ نے ایرانی قیادت کو واضح پیغام دیا کہ امریکی صدر دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے سربراہ ہیں اور آئینی اختیارات کے مکمل استعمال کے اہل ہیں۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ مسقط میں ہونے والے جوہری مذاکرات میں مکمل اختیار اور سنجیدگی کے ساتھ شریک ہوگا، اور اس کا مقصد ایک منصفانہ، باہمی احترام پر مبنی اور قابل قبول مفاہمت تک پہنچنا ہے۔







Discussion about this post