ایران میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور مہنگائی کے اثرات کے سبب جاری مظاہروں نے اب ہنگامی صورتحال اختیار کر لی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق جھڑپوں میں 20 سے زائد مظاہرین ہلاک، 50 سے زیادہ زخمی اور تقریباً 1000 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور فائرنگ کا سہارا لیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔حکومت نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر شہری کو آئندہ چار ماہ تک ماہانہ تقریباً 7 ڈالر کے الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے، جو ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے کریڈٹ کی شکل میں فراہم کیا جائے گا۔پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ عوام کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا، لیکن بیرونی سازشوں کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔ اسی دوران چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے فسادی عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات کا احترام کیا جائے گا، لیکن تخریب کاری کرنے والے اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ عدلیہ کی میزان نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے اٹارنی جنرل اور صوبائی پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی کہ قانون کے سخت نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ دشمن قوتیں ایران میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ عوامی احتجاج اور شرپسندی میں واضح فرق کرتی ہے۔مہنگائی، بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف مظاہرے نویں دن بھی جاری ہیں اور اب یہ ملک کے 78 شہروں تک پھیل چکے ہیں، جس سے ایران ایک طویل المدتی معاشرتی اور اقتصادی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔







Discussion about this post