ایران ایک بڑے قومی المیے سے دوچار ہے، جہاں اسرائیلی ریاست کی بلااشتعال جارحیت کے نتیجے میں ملک کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدانوں اور عام شہریوں سمیت 600 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ یہ اندوہناک واقعہ 13 جون کو پیش آیا، جب اسرائیلی افواج نے ایران کی جوہری، عسکری اور رہائشی تنصیبات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔اس بےرحم جارحیت میں شہادت پانے والوں میں ایران کی عسکری قیادت کے نمایاں ترین نام شامل ہیں، جن میں:
-
میجر جنرل محمد حسین باقری (چیف آف اسٹاف، ایرانی مسلح افواج)
-
میجر جنرل حسین سلامی (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ)
-
میجر جنرل غلام علی راشد (قرارگاه خاتم الانبیا کے کمانڈر)
-
میجر جنرل امیر علی حاجی زادہ (ایرو اسپیس فورس، سپاہ پاسداران)
-
متعدد ایرانی ایٹمی سائنسدان اور دیگر اعلیٰ افسران شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، میجر جنرل حسین سلامی اور ان کے دفتر کے انچارج میجر جنرل مسعود شنعی کو جمعرات کی صبح 9 بجے ان کے آبائی شہر گلپایگان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ شہید ہونے والے دیگر عظیم کمانڈروں کی سرکاری سطح پر قومی نمازِ جنازہ ہفتے کے روز تہران میں ادا کی جائے گی۔ یہ عظیم جنازہ صبح 8 بجے تہران یونیورسٹی کے مرکزی دروازے سے شروع ہو کر آزادی اسکوائر تک جائے گا، جہاں عوام، مذہبی و سرکاری شخصیات، اور سپاہ کے ہزاروں اہلکار شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ یہ المیہ نہ صرف ایران کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک لرزہ خیز لمحہ ہے، جہاں قومی قیادت کا خون خاک وطن سے آمیز ہو چکا ہے۔ یہ قربانی اس جدوجہد کا تسلسل ہے جو ایران اپنی خودمختاری، جوہری خودکفالت اور قومی دفاع کے تحفظ کے لیے عرصہ دراز سے کر رہا ہے۔







Discussion about this post