ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے مشیر اور سینئر سیکیورٹی کمانڈر علی شمخانی کے بارے میں گردش کرنے والی افواہیں بے بنیاد ثابت ہوئیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے میڈیا ادارے کے مطابق علی شمخانی زندہ ہیں اور ان کی حالت اب پہلے سے بہتر اور مستحکم ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق 13 جون کو علی شمخانی کی رہائشگاہ پر مبینہ اسرائیلی حملے میں ان کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بعض رپورٹس میں تو یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں، جس پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔تاہم ان تمام افواہوں کی تردید جمعے کے روز علی شمخانی کی طرف سے جاری کردہ ایک پیغام میں کی گئی، جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:
"میں زندہ ہوں، اور ایران پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہر دم تیار ہوں۔”
تجزیہ: افواہیں، میڈیا اور نفسیاتی جنگ
علی شمخانی کی موت کی جھوٹی خبریں ایران میں نہ صرف پریشانی اور غم کا باعث بنیں، بلکہ اسے ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق دشمن عناصر سوشل میڈیا اور جعلی رپورٹس کے ذریعے عوام میں خوف و انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ریاستی ادارے ایسی چالوں کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔







Discussion about this post