بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف متعصب رویہ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے صاف لفظوں میں اعلان کر دیا ہے کہ اب اتر پردیش میں سڑکوں پر نماز پڑھنے کی کوئی اجازت نہیں ہوگی۔ آسام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ تو کسی عبادت گاہ سے بلند آواز میں اذان دی جائے گی اور نہ ہی کوئی مذہبی آواز بلند کرنے کی اجازت ہوگی۔یوگی آدتیہ ناتھ نے مزید کہا کہ بی جے پی آسام کو مسلم دراندازوں سے مکمل طور پر پاک کر دے گی اور ہر ایک کو نشاندہی کر کے بے دخل کر دیا جائے گا۔ یہ بیانات بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور منظم طور پر انہیں نشانہ بنانے کی حکمت عملی کو عیاں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، مغربی بنگال، آسام اور دیگر ریاستوں میں انتخابات کے قریب آتے ہی ایک نیا فالس فلیگ آپریشن بے نقاب ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، را سے منسلک بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پاکستان کے ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات لگا کر پاکستان مخالف بیانیہ کو شدید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قید بے گناہ افراد کو نشانہ بنا کر ایک مصنوعی ماحول پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابات سے قبل پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دی جا سکے۔ یہ واقعات بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے سلوک اور انتخابی سیاست میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کر رہے ہیں۔







Discussion about this post