بھارتی کرکٹ میں ایک بڑے فیصلے نے ہلچل مچا دی ہے ، روہت شرما کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ دراصل “ٹیم کلچر” کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔یہ انکشاف ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ نوجوان بلے باز شبمن گل کو آسٹریلیا کے خلاف آئندہ تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کے لیے کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی روہت شرما کا ون ڈے قیادت کا دور اختتام پذیر ہوگیا۔ اگرچہ چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے سرکاری طور پر کہا تھا کہ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ کپتان رکھنا “عملی طور پر ممکن نہیں”، تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق اصل وجہ ٹیم کے ماحول اور ڈریسنگ روم کلچر کو محفوظ رکھنا تھی۔

ٹیم کلچر پر خدشات
’ٹائمز آف انڈیا‘ نے بورڈ کے ایک اہم ذریعے کے حوالے سے انکشاف کیا کہ
“روہت جیسے سینئر کھلاڑی کے پاس جب قیادت ہوتی ہے تو وہ اپنے انداز اور فلسفے کے مطابق ٹیم کو چلانے لگتا ہے، جس سے ٹیم کے مجموعی کلچر میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔”
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کو یہ خوف تھا کہ اگر روہت نے قیادت جاری رکھی تو وہ اپنی مخصوص سوچ کے مطابق ٹیم کو چلائیں گے جو نئے انتظامی وژن سے مختلف ہے۔
گوتم گمبھیر کی متحرک انٹری
ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے ابتدا میں اپنی کوچنگ کی مدت کے پہلے چھ ماہ کے دوران ٹیم کے معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کی تھی، لیکن نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ شکستوں کے بعد انہوں نے زیادہ فعال کردار اختیار کیا۔ اب وہ ٹیم کے ڈھانچے، قیادت اور ڈریسنگ روم کے نظم و ضبط پر سختی سے عمل درآمد چاہتے ہیں۔ ان کے قریب ذرائع کے مطابق، گمبھیر نے واضح کیا ہے کہ “ٹیم کو نئی سمت دینے کے لیے نوجوان قیادت ضروری ہے۔”

قیادت میں قبل از وقت تبدیلی
دلچسپ امر یہ ہے کہ اب روہت شرما اور ویرات کوہلی خود شبمن گل کی قیادت میں کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اگرچہ دونوں کے 2027ء کے ورلڈ کپ تک کھیلنے کے امکانات غیر یقینی ہیں، لیکن گوتم گمبھیر اور اجیت اگرکر نے فیصلہ کیا کہ قبل از وقت قیادت میں تبدیلی بہتر ہے تاکہ کسی ممکنہ فارم میں گراوٹ یا غیر یقینی صورتحال کی صورت میں بحران پیدا نہ ہو۔
مشترکہ فیصلہ
بھارتی میڈیا کے مطابق، روہت شرما کو قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ گوتم گمبھیر اور اجیت اگرکر کا مشترکہ فیصلہ تھا۔دونوں کا ماننا ہے کہ چونکہ روہت شرما اور ویرات کوہلی اب عمر کی تیسری دہائی کے آخری حصے میں ہیں، اس لیے آئندہ دو سالوں میں ان کے لیے کارکردگی برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے جبکہ ٹیم کو مستقبل کی تیاری آج سے ہی شروع کرنا ہوگی۔







Discussion about this post