سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط نے خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اعلان کیا ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوگا تو وہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دفاعی شراکت داری مسلم دنیا کے دو بڑے ممالک کے درمیان پہلی بار سامنے آئی ہے جسے ماہرین ’گیم چینجر‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے فوری بعد انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"ہم نے اس معاہدے پر دستخط کی خبریں دیکھی ہیں، حکومت اس کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی، خاص طور پر قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تناظر میں۔ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور ہمہ جہتی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔”
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں بھارت نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کرتے ہوئے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان میں فضائی کارروائیاں کی تھیں۔پاکستان نے نہ صرف اس الزام کو مسترد کیا بلکہ بھرپور جواب بھی دیا۔ لائن آف کنٹرول پر شدید جھڑپوں اور میزائل و ڈرون حملوں کے بعد پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن میں تین فرانسیسی رافیل بھی شامل تھے۔ بھارتی عسکری حکام بھی اپنے نقصان کا اعتراف کر چکے ہیں۔خطے کی تاریخ میں پہلی بار ہونے والا یہ سٹریٹجک ڈیفنس پیکٹ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کو نئی جہت دے رہا ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سیاست پر پڑنے والے ہیں۔







Discussion about this post