پاکستانی کرکٹ کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کی قانونی ٹیم نے ایک طاقتور اور واضح موقف اپناتے ہوئے سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسی صورتحال میں سامنے آیا ہے جہاں ذاتی معاملات سوشل میڈیا پر شدید تنازع کا باعث بن چکے ہیں، اور قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ لیگل ٹیم کے مطابق ثانیہ اشفاق نے قتل اور جبری اسقاط حمل جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں، لیکن یہ تمام الزامات سراسر بے بنیاد اور غلط ہیں۔ دفاع کے لیے تمام متعلقہ دستاویزات، میڈیکل رپورٹس اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، جو واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ اسقاط حمل سے متعلق کوئی جبری عمل نہیں ہوا۔ یہ میڈیکل شواہد الزامات کی بنیاد ہی ختم کر دیتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ثانیہ اشفاق کو قانونی نوٹس بھیج دیا گیا ہے، اور نومبر 2023 میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کے لیے کیے گئے سفر کے فیصلے باہمی رضامندی سے ہوئے تھے، لہٰذا اس معاملے میں عماد وسیم کو کسی بھی طرح مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ متعلقہ ڈاکٹرز بھی عدالت میں گواہی دینے کے لیے تیار ہیں، جو عماد وسیم کے موقف کی مزید تصدیق کریں گے۔ دسمبر 2023 میں جبری اسقاط حمل کے دعوے کے برعکس، نومبر کے اختتام کے سفر کے ریکارڈ سمیت دیگر دستاویزی شواہد ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ قانونی ٹیم نے تمام دستاویزات، گواہان کے بیانات اور ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کے لیے تیار کر لیے ہیں۔ اگر کسی کے پاس اس کے برعکس کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو وہ عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔

یہ معاملہ عدالت کے سامنے ہی طے ہو گا۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب عماد وسیم نے نائلہ راجہ سے دوسری شادی کی تصدیق کی، جس کے بعد ثانیہ اشفاق نے سوشل میڈیا پر واٹس ایپ چیٹس، ویڈیوز اور الزامات کا سلسلہ شروع کیا۔ انہوں نے عماد وسیم پر بے وفائی، بچوں کی پرواہ نہ کرنے اور جبری اسقاط حمل کے دعوے کیے، حتیٰ کہ انہیں "قاتل” تک کہا۔ جولائی 2025 کی مبینہ چیٹس میں عماد وسیم کی جانب سے قانونی کارروائی کی دھمکیاں بھی سامنے آئیں، جبکہ ثانیہ نے بچے کی پیدائش کے موقع پر موجودگی کی اپیل کی تھی۔







Discussion about this post