سعودی عرب نے اس سال حجاج کرام کو شدید گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک منفرد اور جدید ’’ٹھنڈا احرام‘‘ متعارف کروا دیا ہے، جس میں فائبر ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو سورج کی تپش کو جسم تک پہنچنے سے پہلے ہی منعکس کر دیتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ نیا احرام خاص طور پر ان لاکھوں مسلمانوں کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ہر سال سخت ترین موسم میں حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچتے ہیں۔ مسلسل کئی برسوں سے شدید گرمی کے سبب حجاج کو مشکلات کا سامنا رہا، جس کے پیشِ نظر یہ جدت ایک بڑی سہولت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس جدید احرام کی ٹیکنالوجی نہ صرف جسم پر گرمی کے اثرات کو کم کرتی ہے بلکہ دورانِ حج حجاج کی تھکن میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے۔

یہ خصوصی احرام سعودی ایئرلائن اپنے عازمینِ حج کو فراہم کرے گی۔ ایئرلائن حکام کے مطابق یہ ٹھنڈا احرام حجاج اور عمرہ زائرین کے لیے گرمی سے بچاؤ کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ رواں موسمِ حج میں ایئرلائن نے ایک اور نمایاں سہولت ’’سامان کے بغیر حج‘‘ کے نام سے متعارف کروائی ہے، جس کے تحت حاجیوں کا سامان ان کی رہائش گاہ سے جمع کرکے براہِ راست کارگو تک منتقل کیا جاتا ہے، تاکہ ان کا سفر مزید ہلکا اور آرام دہ ہو جائے۔اس کے ساتھ ساتھ ایئرلائن ’’فلائنگ ٹیکسی‘‘ کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، جس کے ذریعے حاجیوں کو ایئرپورٹ سے مکہ یا مدینہ تک تیزی، سہولت اور آرام کے ساتھ پہنچایا جائے گا۔ یہ سہولیات حج کے انتظامات میں ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح مثال ہیں۔







Discussion about this post