کراچی کے ڈیفنس میں مردہ حالت میں پائی جانے والی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی پوسٹ مارٹم کی کیمیکل رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں ان کی موت کو طبعی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم مرحومہ کے اہلِ خانہ واقعے کو سوچی سمجھی سازش قرار دے رہے ہیں اور تحقیقات پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اداکارہ کی لاش سے حاصل کیے گئے نمونوں کی فرانزک جانچ جامعہ کراچی کی لیبارٹری میں کی گئی، جن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق موت کسی زہریلے مادے یا تشدد کے باعث نہیں ہوئی۔ تاہم مزید رپورٹس تاحال زیر التوا ہیں۔ اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی، جو ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق لاش ایک ماہ پرانی تصور کی جا رہی تھی، مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ نے انکشاف کیا کہ موت کو 8 سے 10 ماہ گزر چکے تھے۔

لاش اس وقت برآمد ہوئی جب مکان مالک کی جانب سے کرایہ ادا نہ کیے جانے پر فلیٹ خالی کرانے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا جا رہا تھا۔ مرحومہ کے بھائی نوید اصغر نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن کی موت طبعی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند قتل ہے۔ ان کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ فلیٹ کا پچھلا دروازہ کھلا ہوا تھا جبکہ چھت کی کھڑکی بھی مسلسل کھلی رہی، جس سے بدبو پھیلنے سے بچا جا سکا۔ نوید اصغر نے کہا کہ یہ تمام علامات ایک سوچی سمجھی اسکیم کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ:
-
مکان مالک کا مکمل ڈیٹا اور کال ریکارڈ حاصل کیا جائے
-
حمیرا کی ٹریول ہسٹری کی مکمل چھان بین کی جائے
-
فلیٹ سے متعلقہ شواہد کو محفوظ کر کے تحقیقات کا دائرہ لاہور تک بڑھایا جائے
نوید اصغر نے شکوہ کیا کہ ان کی بہن کے آخری پروجیکٹس سے جڑے کچھ فنکار اور عملہ تحقیقات میں مکمل تعاون نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا:
"اگر وہ بے گناہ ہیں تو سامنے آئیں اور سچ بتائیں، چھپنے سے شکوک میں اضافہ ہوتا ہے۔”
اداکارہ کی پراسرار موت نے شوبز حلقوں اور عوامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے، جہاں سوشل میڈیا پر انصاف کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ کئی فنکاروں نے بھی اس کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کی تفتیش جاری ہے جبکہ مزید فرانزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے







Discussion about this post