امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبے کو عملی جدوجہد میں بدلتے ہوئے 21 دسمبر کو ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر عوام کو بااثر اشرافیہ کی سیاسی گرفت سے نجات ممکن نہیں۔ ڈان اخبار کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں ہونے والے حالیہ عوامی اجتماع کے انعقاد میں کردار ادا کرنے والے منتظمین اور کارکنان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متناسب نمائندگی ہی وہ راستہ ہے جو عوام کو طاقتور طبقات کی سیاسی یرغمالی سے آزاد کرا سکتا ہے۔ ان کے بقول موجودہ نظام عوامی خواہشات کا عکاس نہیں بلکہ چند مخصوص حلقوں کے مفادات کا محافظ بن چکا ہے۔ انہوں نے پولیس اور عدالتی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ اور کچہری کا ڈھانچہ عام شہری کے لیے انصاف کے بجائے اذیت بن چکا ہے، جبکہ یہ نظام چند طاقتور طبقات کی خدمت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ حافظ نعیم کے مطابق ملک میں جامع پولیس اصلاحات اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔ امیر جماعتِ اسلامی نے بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں 21 دسمبر کو ملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کا اعلان کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے والے اداروں، آئی پی پیز، سے کیے گئے معاہدوں کے خلاف احتجاجی تحریک کی ازسرِنو تنظیم کا بھی عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر یہی ہوگا کہ حکومت نئی احتجاجی مہم کے آغاز سے قبل ہی اس مسئلے کا حل نکال لے۔ انہوں نے حالیہ عوامی اجتماع کو فرسودہ نظام کے خلاف ملک گیر جدوجہد کی ابتدا قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی آئندہ ایک سال کے دوران 50 ہزار عوامی کمیٹیاں قائم کرے گی اور 50 لاکھ نئے افراد کو جماعت میں شامل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق احتجاج کے ساتھ ساتھ اصلاح اور بہتری پر مبنی تعمیری سرگرمیاں بھی مسلسل جاری رہیں گی۔

نوجوانوں کے لیے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے زیڈ کنیکٹ پروگرام کو نوجوان نسل کے لیے ایک انقلابی اقدام قرار دیا، جس کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مختلف فنی مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے، کھیلوں کے مواقع بڑھائے جائیں گے اور اخلاقی و کردار سازی کی تربیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی حکومتیں کسی بھی جمہوری نظام کی سب سے مضبوط اور مؤثر سطح ہوتی ہیں، مگر پاکستان میں آنے والی حکومتوں نے دانستہ طور پر انہیں کمزور رکھا۔ حافظ نعیم نے نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں خاندانی اور شخصی سیاست کے گرد گھومتی ہیں، جہاں کارکن محض تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کو مثال بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاندانی سیاسی جماعتیں اختیارات عوام کو منتقل کرنے پر تیار نہیں، اسی لیے ایسے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں جو مقامی حکومتوں کو بے اختیار بناتے ہیں۔ ان کے مطابق جماعتِ اسلامی نے نہ صرف پنجاب کے اس سیاہ قانون کے خلاف بلکہ پورے ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ حکمران اشرافیہ پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومتیں چند نمائشی فلاحی اقدامات سے عوام کو بہلانے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ ادارہ جاتی زوال اور عوامی استحصال کی اصل ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کی غلط پالیسیوں کی اندھی تقلید کر رہی ہیں، جس کی واضح مثال سندھ کے بعد پنجاب میں بھاری ٹریفک جرمانوں کا نفاذ ہے۔ احتساب کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی کھلی خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں، اور فارم 47 کے ذریعے مسلط کیے جانے والوں اور ان کے سہولت کاروں کا احتساب آج بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ آخر میں حافظ نعیم الرحمٰن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعتِ اسلامی عوام، خصوصاً نوجوانوں کی قوت کے ساتھ فرسودہ نظام اور اس کے سرپرستوں کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی






Discussion about this post