بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن کے دوران خطرناک دہشتگرد ساجد احمد کو گرفتار کر لیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعزاز گورایہ نے بتایا کہ گرفتار دہشتگرد ساجد احمد اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے اور اس کا سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے مواد کے پھیلانے میں مرکزی کردار رہا ہے۔ کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے دہشتگرد کو گرفتار کیا، جو تربت کی جانب بھاری مقدار میں اسلحہ منتقل کر رہا تھا۔ ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران ایک اور دہشتگرد جہانزیب مہربان کو بھی گرفتار کیا گیا، جو ریکی اور مالی معاونت میں ملوث تھا اور اپنے ساتھ ایک 18 سالہ نوجوان کو بھی شامل کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ ساجد احمد یونیورسٹی آف تربت میں پڑھاتا رہا اور اس کی بھابھی بھی کالعدم تنظیم کی کارروائیوں میں ملوث تھی۔ مزید کارروائیوں میں دہشتگرد بیزل اور خاران کے رہائشی سرفراز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کہا کہ پورے صوبے میں پولیس کی مضبوط عملداری موجود ہے اور ہر ضلع میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ادارے کی شاخیں قائم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔







Discussion about this post