دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان مخالف بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت غیر ذمہ دارانہ الزامات کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے واضح طور پر بھارتی وزیر خارجہ کے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کے پھیلاؤ میں بھارت کا کردار واضح اور ناقابل تردید ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کیس ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا غیر متنازعہ ثبوت ہے، جبکہ پراکسیز کے ذریعے تخریب کاری اور ماورائے عدالت قتل بھارت کی مستقل اور جارحانہ پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا انتہا پسند نظریے کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ترجمان نے سندھ طاس معاہدے کی بھی یاد دہانی کرائی اور کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے، جس کی یکطرفہ خلاف ورزی ناقابل قبول ہے اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔انہوں نے بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی اور جابرانہ قبضے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔







Discussion about this post