بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں دو لاکھ کیوسک پانی چھوڑے جانے اور مسلسل بارشوں کے بعد پنجاب کے بڑے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج نے خطرناک حد تک بپھر کر تباہی مچا دی ہے۔ کئی دہائیوں بعد صوبہ پنجاب کو اتنے بڑے پیمانے پر سیلاب کا سامنا ہے، جس نے لاکھوں انسانوں کو متاثر اور ہزاروں دیہات کو زیرِ آب کر دیا ہے۔
خطرناک سیلابی کیفیت
ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب اور گنڈا سنگھ والا (ستلج) و جسڑ (راوی) پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے راوی میں تو 32 برس بعد سب سے شدید صورتحال سامنے آئی ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، اب تک 45 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں، اگرچہ خوش آئند امر یہ ہے کہ فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
انخلا اور ریسکیو آپریشن
سیلابی ریلے نے لاہور کے شاہدرہ، موٹروے ٹو کے نشیبی علاقے، قصور، نارووال، اوکاڑہ اور دیگر اضلاع کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سول ڈیفنس اور ریسکیو 1122 کے دستے مسلسل الرٹ پر ہیں۔
-
نارووال میں خواتین اور بچوں سمیت 50 افراد کو بروقت ریسکیو کیا گیا۔
-
شکر گڑھ کے علاقے جرمیاں جھنڈے میں دیوار پر پناہ لینے والے درجنوں افراد کو بھی بحفاظت نکالا گیا۔
-
مقامی ایم پی اے احمد اقبال لہڑی بھی سیلابی پانی میں پھنس گئے تھے، جنہیں ریسکیو ٹیم نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
متاثرہ علاقے اور نقصانات
سیلابی پانی سے ہیڑے، نواں کوٹ، خضر آباد، لالو آنہ، گجراں دا ٹھٹہ، کھوہ صادق اور ڈیرہ حاکم جیسے دیہات شدید متاثر ہوئے۔ زمینی رابطے منقطع ہونے سے مکین محصور ہیں جبکہ دھان، مکئی، سبزیوں اور چارے کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مقامی افراد اور سرکاری مشینری پانی روکنے کے لیے بند باندھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دریاؤں کی صورتحال
-
ہیڈ بلوکی (راوی) پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کی آمد 79 ہزار 660 کیوسک تک پہنچ گئی۔
-
مرالہ بیراج (چناب) پر پانی کی آمد 4 لاکھ 79 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی، جبکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں یہ ریلا چنیوٹ پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔
-
کرتارپور مکمل طور پر زیرِ آب آچکا ہے، حتیٰ کہ سکھ برادری کا مقدس مقام گوردوارہ دربار صاحب بھی سیلابی پانی میں ڈوب گیا ہے۔
-
دریائے سندھ میں سکھر بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔
فوج کی طلبی اور ریسکیو آپریشن
سیلابی تباہ کاریوں کے پیشِ نظر لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کو طلب کرلیا گیا ہے۔ فوجی جوان کشتیوں کے ذریعے متاثرین، بچوں اور خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ متاثرین کے لیے ریلیف کیمپ بھی قائم کردیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزرا کو متاثرہ اضلاع کے دورے اور ریلیف آپریشنز کی براہِ راست نگرانی کی ہدایت کی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سمیت تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور متاثرین کی فوری بحالی کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔







Discussion about this post