لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر شبلی فراز کے خلاف زمان پارک میں پولیس پر حملے کے مقدمے میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ شبلی فراز کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے۔ اس کیس میں پی ٹی آئی کے بانی کو بھی 30 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ سمن جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو مقررہ تاریخ پر پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
پس منظر: زمان پارک میں تصادم کا واقعہ
یہ مقدمہ مارچ 2023 میں اُس وقت درج کیا گیا جب اسلام آباد پولیس توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے لیے لاہور کے علاقے زمان پارک میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی۔ عدالت نے ان کی بارہا غیر حاضری پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کی کوشش کے دوران زمان پارک کے باہر صورتِ حال کشیدہ ہو گئی۔ فواد چوہدری کی اپیل پر بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنان وہاں پہنچے اور پولیس کے خلاف مزاحمت کی۔ اس دوران اسلام آباد پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔پولیس نے واضح کیا تھا کہ گرفتاری کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسلام آباد پولیس چیف کا مؤقف تھا کہ "ہم خالی ہاتھ واپس نہیں جائیں گے”، تاہم اس روز بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

قانونی گرفت مزید سخت
تھانہ ریس کورس لاہور میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج ہے، جس میں مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا۔ شبلی فراز کو متعدد بار نوٹس جاری کیے گئے، مگر عدالت میں پیش نہ ہونے پر اب ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔







Discussion about this post