ڈی جی آئی ایس پی آر نے قائداعظم یونیورسٹی میں طلبہ و اساتذہ سے خصوصی نشست میں ملکی سلامتی، داخلی صورتحال اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار پر جامع روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی میں ان کی آمد کو طلبہ و اساتذہ دونوں نے بے حد سراہا اور اسے ایک اہم اور بامقصد مکالمہ قرار دیا۔ اس نشست کے دوران انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کی کوشش کی گئی تو ملک اس کا بھرپور، دوٹوک اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والے پروپیگنڈے اور اصل حقائق کے درمیان فرق کو بھی نہایت مدلل انداز میں بیان کیا، جس سے نوجوانوں کے کئی ذہنی سوالات دور ہوئے۔ اس موقع پر وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ پاک فوج نے نہ صرف بھارتی فوجی عزائم بلکہ ان کی جدید ٹیکنالوجی کو بھی ناکام بنا کر اپنی پیشہ ورانہ برتری ثابت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیشن یونیورسٹی کے لیے ایک علمی اور فکری اثاثہ ثابت ہوا۔ اساتذہ نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ہم کسی قومیت یا لسانی شناخت سے پہلے پاکستانی ہیں، اور آج کی نشست نے اس احساس کو مزید مضبوط کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات نے کئی غلط فہمیاں دور کر کے طلبہ میں ایک نیا اعتماد پیدا کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں ڈرون حملے نہیں کیے جاتے اور نہ ہی ملک نے کسی بیرونی طاقت کو اس نوعیت کی اجازت دی ہے۔طلبہ نے اس مکالمے کو نہایت معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مس انفارمیشن پر کیے گئے تمام سوالات کے تسلی بخش، مدلل اور دلائل سے بھرپور جوابات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی ہیں، پاک فوج ہماری ہے، اور ہم اپنی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قربانیوں اور خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں۔







Discussion about this post