نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی بگڑتی ہوئی انسانی و علاقائی صورتحال پر تفصیلی ٹیلیفونک مشاورت کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے اپنے غیر متزلزل عزم کی دوٹوک توثیق کی۔دفترِ خارجہ کے مطابق یہ گفتگو گزشتہ رات دیر گئے ہوئی، جس میں فریقین نے فلسطین اور غزہ کے حوالے سے تازہ علاقائی پیش رفت کا گہرا اور سنجیدہ جائزہ لیا, یہ رابطہ اُن سفارتی مذاکرات کا تسلسل تھا جو اس سے قبل بھی دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان جاری ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے نہ صرف صورتِ حال پر یکساں تشویش کا اظہار کیا بلکہ باہمی اتفاقِ رائے کے ساتھ اس عزم کو دہریا کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے مربوط سفارتی، سیاسی اور انسانی نوعیت کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ دونوں ممالک نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ آئندہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke on the phone late last night with the Foreign Minister of Saudi Arabia, H.H. Prince Faisal bin Farhan @FaisalbinFarhan.
Building on their previous discussions, the two leaders reviewed recent regional… pic.twitter.com/31G4PqAOpQ
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 22, 2025
پاکستان اور سعودی عرب اُن آٹھ مسلم ممالک میں شامل رہے ہیں جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور معصوم فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی امن فارمولا وضع کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ اسی تسلسل میں رواں ماہ کے آغاز میں دونوں ممالک نے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے خاتمے اور جنگ بندی معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا تھا، جب کہ سعودی عرب نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ پیش قدمی دو برس کی تباہ کن جنگ کے بعد امن و سکون کی طرف فیصلہ کن قدم ثابت ہوگی۔ مزید برآں، پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی روابط ہمہ جہتی نوعیت کے حامل ہیں, یہ رشتے مشترکہ اسلامی ورثے، گہرے اسٹریٹجک تعاون، وسیع اقتصادی اشتراک اور توانائی و مالی معاونت پر استوار ہیں۔ اسلامی دنیا کی قیادت میں دونوں ممالک کی قربت ہمیشہ خطے کے توازن میں بنیادی حیثیت رکھتی آئی ہے۔ ستمبر میں ریاض میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے تحت اگر کسی ایک ملک پر بیرونی حملہ کیا جائے تو اُسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا. یہ اقدام دونوں ریاستوں کی سلامتی اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔







Discussion about this post