بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پہلگام حملے کے حوالے سے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے نہ صرف بھارتی بیانیے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ پاکستان پر عائد الزامات کو بھی سنگین شکوک و شبہات کی زد میں ڈال دیا ہے۔ چدمبرم نے ایک معروف بھارتی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اپریل 2025 میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر ہونے والے ہولناک حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’’حکومت یہ دعویٰ کس بنیاد پر کر رہی ہے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے؟ اگر یہ سچ ہے تو اب تک شواہد پیش کیوں نہیں کیے گئے؟‘‘ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ تمام دستیاب شواہد اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ حملہ آور بھارتی شہری تھے، جنہیں دہشتگردی کی تربیت بھارت ہی کی سرزمین پر دی گئی۔ چدمبرم کے بقول، نہ تو حملہ آوروں کی شناخت سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے، جو سرکاری دعوؤں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ یاد رہے کہ اس افسوسناک واقعے میں 26 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جس کے بعد بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے ایک جوابی کارروائی کی جس میں اسے بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تین ماہ گزرنے کے باوجود تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں۔ چدمبرم کے بیان نے نہ صرف بھارت کے سرکاری موقف پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ پاکستان کے مؤقف کی تائید بھی کر دی ہے، جس نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف، غیرجانبدار اور مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔







Discussion about this post