مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اوپن اے آئی (OpenAI) نے اپنے مشہور چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) میں جدید ترین خصوصیت متعارف کرا دی ہے۔ اس نئی اپڈیٹ کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی اب صرف ایک ورچوئل اسسٹنٹ نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل معاون کی شکل اختیار کر گیا ہے جو "سوچنے” اور "عمل کرنے” کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ اپڈیٹ "ایجنٹ موڈ” کا حصہ ہے، جس کے تحت چیٹ جی پی ٹی نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اب عملی طور پر پیچیدہ کام بھی انجام دے سکتا ہے۔ مثلاً، یہ صارف کو آنے والی کلائنٹ میٹنگز کے بارے میں بریفنگ دے سکتا ہے، چار افراد کے لیے جاپانی ناشتہ تجویز کرکے اس کے اجزاء آن لائن آرڈر کر سکتا ہے، یا دیگر تنظیمی و تجزیاتی کام انجام دے سکتا ہے۔ اس پیش رفت میں اوپن اے آئی کے دو طاقتور ٹولز "اوپریٹر” اور "ڈیپ ریسرچ” کو شامل کیا گیا ہے۔ اوپریٹر براہِ راست انٹرنیٹ براؤز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ڈیپ ریسرچ آن لائن مواد کا گہرائی سے تجزیہ کرکے رپورٹس یا خلاصے تیار کرتا ہے۔یہ خصوصیت اس وقت صرف پرو، پلس، اور ٹیم صارفین کے لیے دستیاب ہے، جس سے چیٹ جی پی ٹی کو گوگل جیمنائی اور ایپل سری جیسے اے آئی اسسٹنٹس پر واضح برتری حاصل ہو رہی ہے۔

اوپن اے آئی نے اپنے بلاگ میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ایک اہم سنگِ میل ہے، لیکن فی الحال اس میں کچھ حدود باقی ہیں۔ جیسے:
-
ماڈل کی رسائی محدود ڈیٹا تک ہے،
-
حساس نوعیت کے کام جیسے بینک ٹرانسفر خودکار طور پر انجام نہیں دیے جا سکتے،
-
اور بعض افعال مثلاً ای میل بھیجنے سے قبل صارف کی اجازت ضروری ہوگی۔
اس اپڈیٹ کو مصنوعی ذہانت کے سفر میں ایک اور اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف ڈیجیٹل معاونین کے تصور کو بدل رہا ہے بلکہ انسانی روزمرہ زندگی میں AI کے کردار کو بھی نئی شکل دے رہا ہے۔







Discussion about this post