شاہزیب خانزادہ کے قلم سے لکھے ڈرامہ سیریل کیس نمبر 9 آغاز ہی سے کہانی، مکالموں اور جرات مندانہ موضوعات کے باعث ناظرین کے دلوں میں جگہ بنا چکا ہے۔ جنسی ہراسانی، ریپ اور انصاف کے پیچیدہ نظام جیسے سنجیدہ ایشوز کو جس شدت اور سچائی سے اس ڈرامے میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ اسے موجودہ ڈراموں میں ایک منفرد مقام دے رہا ہے۔ تازہ ترین قسط میں شامل ایک مکالمہ نہ صرف سراہے جانے لگا بلکہ سوشل میڈیا پر بحث کا طوفان برپا کر گیا۔ اس ڈائیلاگ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس ( رر) منصور علی شاہ اور پارلیمانی بالادستی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ جملہ سنایا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ ملک کے چیف جسٹس بن سکتے تھے، اگر 26ویں آئینی ترمیم ان کے راستے میں نہ لائی جاتی۔
شاہزیب خانزادہ کے لکھے ڈرامے میں چھبیسویں ترمیم، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ اور پارلیمانی سپریمیسی کا زکر۔۔
پتا لگ رہا ہے کسی صحافی نے ڈرامہ لکھا ہے۔— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) November 19, 2025
یہ سین اتنی تیزی سے وائرل ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں بار شیئر ہونے لگا۔ صحافی وسیم عباسی نے تبصرہ کرتے ہوئے دلچسپ انداز میں کہا کہ مکالمہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ڈرامہ کسی صحافی نے لکھا ہے۔ کئی صارفین نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ جیو کے آفیشل یوٹیوب چینل پر اپلوڈ ہونے والی قسط میں یہ مکالمہ غائب ہے۔ وسیم ملک کے مطابق قسط نمبر 17 سے یہ پورا سین نکال دیا گیا ہے، حالانکہ سوشل میڈیا پر یہی کلپ سب سے زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر 26 ویں آئینی ترمیم کرکے ان کا راستہ نہ روکا جاتا،شاہزیب خانزادہ کے ڈرامہ کیس نمبر 9 کا ڈائیلاگ pic.twitter.com/ZrdOMZmfoa
— Aatif Khattak (@MalakAatifKhan) November 19, 2025
کچھ صارفین نے تو یہ تک پوچھ لیا کہ آیا یہ مکالمہ واقعی اصل قسط کا حصہ تھا یا بعد میں ایڈٹ کر کے شامل کیا گیا۔ یہ سوالات ڈرامے کے اثر اور اس کی طاقتور تحریر کی بازگشت ہیں۔ڈرامے کی مرکزی کہانی ایک ریپ سروائیور کی انصاف کے لیے بے خوف لڑائی کے گرد گھومتی ہے۔
صبا قمر نے متاثرہ لڑکی کا کردار دل ہلا دینے والی شدت کے ساتھ ادا کیا ہے، جبکہ فیصل قریشی ایک سنگدل کردار میں پوری قوت سے سامنے آئے ہیں۔ رشنا خان، جو حقیقی زندگی میں شاہزیب خانزادہ کی اہلیہ ہیں، ڈرامے میں فیصل قریشی کی بیوی کا کردار ادا کر رہی ہیں، جس سے کہانی میں ایک نیا جذباتی زاویہ شامل ہو جاتا ہے۔
کیس نمبر 9 نہ صرف ایک ڈرامہ ہے بلکہ معاشرتی رویوں، انصاف کے نظام اور طاقت کے مراکز پر اٹھایا جانے والا ایک بے حد اہم سوال بھی ہے۔ یہی اس کی مقبولیت اور اثر کی اصل وجہ ہے۔







Discussion about this post