کرکٹ کی دنیا ایک اور ناقابلِ یقین لمحے کی گواہ بنی جب آسٹریلیا نے تیسرے اور آخری ڈے نائٹ ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 176 رنز سے دھول چٹاتے ہوئے سیریز 0-3 سے اپنے نام کر لی۔ مگر اس میچ کی سب سے بڑی سرخی ویسٹ انڈیز کی محض 27 رنز پر دوسری اننگز تھی جو ٹیسٹ کرکٹ کی گزشتہ 70 سالوں میں دوسری کم ترین اننگز بن گئی۔
تاریخ کا سیاہ ترین دن ویسٹ انڈیز کے لیے
ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ ایسی بکھری کہ صرف 27 رنز پر پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔ اس اننگز میں سات بلے باز صفر پر آؤٹ ہوئے جن میں سے چار نے گولڈن ڈک (پہلی گیند پر آؤٹ) کا "اعزاز” حاصل کیا۔ 1955 میں نیوزی لینڈ 26 پر آؤٹ ہوئی تھی، اور اس فہرست میں سب سے نیچے اب ویسٹ انڈیز کا بھی نام جُڑ چکا ہے۔

مچل اسٹارک: عظمت کا نیا باب
اس تباہ کن اننگز میں آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلرز نے آندھی اور طوفان کا روپ دھار لیا۔ مچل اسٹارک نے اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ کو یادگار ترین کارکردگی سے سجا دیا صرف 9 رنز کے عوض 6 وکٹیں، اور ساتھ ہی کیریئر کی 400ویں وکٹ بھی حاصل کر کے خود کو ٹیسٹ کرکٹ کے عظیم ترین باؤلرز میں شامل کر لیا۔لیکن یہ سب کچھ نہیں اسٹارک نے ایک ہی اسپیل میں 15 گیندوں پر 5 وکٹیں لے کر ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کم گیندوں پر 5 وکٹیں لینے کا 78 سالہ ریکارڈ بھی توڑ ڈالا، جو 1947 میں ایرنی توشاک کے پاس تھا۔

اسکاٹ بولینڈ کا ہیٹ ٹرک کا جادو
اسکاٹ بولینڈ نے بھی تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہیٹ ٹرک مکمل کی، اور ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کو سانس لینے کا بھی موقع نہ دیا۔ پوری ٹیم کی صرف ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں واپسی نے تماشائیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
کپتان اور کوچ کی داد
کپتان پیٹ کمنز نے مچل اسٹارک کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
“اسٹارک وہ کھلاڑی ہے جو صرف چند اوورز میں پورا میچ پلٹ سکتا ہے اور وہ یہ کسی بھی فارمیٹ میں، کسی بھی وقت کر سکتا ہے۔”
شام ڈھلنے سے پہلے ہی اختتام
ڈے نائٹ ٹیسٹ میں روشنیوں کا کردار ہمیشہ کلیدی سمجھا جاتا ہے، مگر یہ میچ اس قدر تیزی سے ختم ہوا کہ صرف 9 اوورز ہی فلڈ لائٹس میں کروائے جا سکے۔ اسٹارک نے کہا:
"ہماری حکمت عملی تھی کہ اگر دن میں وکٹیں نہ ملیں تو رات کا فائدہ اٹھائیں، مگر بولرز نے دن میں ہی دشمن کا قلع قمع کر دیا۔”
نوجوان سیم کونسٹاس کا برا خواب
جہاں ایک طرف آسٹریلیا نے میدان مارا، وہیں نوجوان اوپنر سیم کونسٹاس کے لیے یہ سیریز خوفناک خواب ثابت ہوئی۔ وہ تیسرے ٹیسٹ میں بھی صفر پر آؤٹ ہوئے اور پوری سیریز میں محض 8.33 کی اوسط سے 50 رنز ہی بنا سکے جو 1984 کے بعد کسی بھی آسٹریلوی اوپنر کی سب سے ناقص سیریز رہی۔
اختتامی پیغام
مچل اسٹارک نے میچ کے بعد کہا:
"پورا ہفتہ عجیب محسوس ہوا، میں بس یہ چاہتا تھا کہ ہم میچ جیتیں اور ٹیم کے ساتھ گانا گائیں۔ یہ لمحہ میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔”







Discussion about this post