ایشیا کپ کے چھٹے میچ میں پاکستان کے خلاف بھارتی ٹیم کے رویے نے کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس غیر روایتی اور نامناسب طرزِ عمل پر باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور میریلبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کو تفصیلی خط ارسال کردیا ہے۔ پی سی بی نے اپنے خط میں میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو فوری طور پر ایشیا کپ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں انکشاف کیا گیا کہ ریفری نے ٹاس کے موقع پر پاکستانی کپتان سلمان آغا کو کہا کہ بھارتی کھلاڑی ہاتھ نہیں ملائیں گے، اور اس سے قبل پاکستان کے میڈیا منیجر کو ہدایت دی کہ یہ منظر کیمروں میں قید نہ کیا جائے۔ میچ کے بعد پاکستان ٹیم کے مینجر نوید اکرم چیمہ نے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اینڈریو رسل سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہدایات بھارتی بورڈ اور دراصل بھارتی حکومت کی جانب سے دی گئی تھیں۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے بھارتی ٹیم کے رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "پاکستان کرکٹ کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”

اے سی سی کا نوٹس اور ممکنہ کارروائی
بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن پر غور شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹورنامنٹ ڈسپلنری کمیٹی تمام واقعات کا جائزہ لے رہی ہے اور بھارتی کرکٹرز پر بھاری جرمانے کے امکانات ہیں۔ اے سی سی آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 2.20 اور 2.21 کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔ اس کارروائی کی زد میں بھارتی کپتان سوریا کمار یادو سمیت کھلاڑی اور اسپورٹ اسٹاف بھی آسکتے ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
یاد رہے کہ ٹاس کے بعد بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سلمان آغا سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، اور میچ کے اختتام پر بھی بھارتی کھلاڑیوں نے روایتی شیک ہینڈ سے اجتناب کیا۔ یہ رویہ اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کا ردعمل بالکل فطری تھا کیونکہ کھیل میں عزت، احترام اور ایمانداری بنیادی اصول ہیں۔








Discussion about this post