سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور ان کے اہلخانہ کو نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے یہ حکم ان درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا جن میں علوی فیملی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ عارف علوی، ان کے بیٹے اور دیگر اہلخانہ کو حراست میں نہ لیا جائے، تاہم نیشنل سائبر کرائم ایجنسی اور متعلقہ اداروں سے 21 اکتوبر تک رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے بتایا کہ درخواست گزار کے خلاف توہینِ مذہب کے الزامات پر تحقیقات جاری ہیں، لیکن نوٹس کے باوجود وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوئے۔ عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اپنایا کہ سابق صدر پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ ان کے مطابق نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے پاس بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اختیار ہی نہیں، مگر ایک فرد پر الزام کے باوجود پورے خاندان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مونیٹائزڈ ہوتے ہیں، اور بعض لوگ وائرل ہونے یا دیگر مقاصد کے لیے ایسے بیانات دیتے ہیں۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی جرم نہیں کیا تو انکوائری سے بچنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ عدالت نے مزید کہا کہ گرفتاری کے خدشے کی صورت میں حفاظتی ضمانت کے لیے علیحدہ درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔







Discussion about this post