تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

انیقہ کا سانحہ، تحقیقات نہیں، عملی فیصلہ چاہیے!

by ویب ڈیسک
اکتوبر 11, 2025
انیقہ کا سانحہ، تحقیقات نہیں، عملی فیصلہ چاہیے!
Share on FacebookShare on Twitter

جامعہ کراچی میں طالبہ انیقہ سعید کی المناک موت محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو اپنی لاپرواہی سے زندگیوں کے چراغ گل کر رہا ہے۔ انیقہ، شعبۂ سوشل ورک کی ایک باصلاحیت، پُرجوش اور خوابوں سے لبریز طالبہ تھی۔ وہ ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھ رہی تھی مگر یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت نے اُس خواب کو ایک لمحے میں خاک میں ملا دیا۔یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں، یہ اس پورے معاشرتی ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان ہے جہاں طلبہ کی جان کی حفاظت ثانوی حیثیت رکھتی ہے، اور ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جامعہ کراچی میں چلنے والی بیشتر پوائنٹ بسیں کئی دہائیوں پرانی اور ناقابلِ مرمت ہیں۔ان کے ٹوٹے دروازے، زنگ آلود بریکیں اور خستہ ڈھانچے روزانہ ہزاروں طلبہ کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کیا یہ بسیں یونیورسٹی ٹرانسپورٹ ہیں یا موت کے پہیے؟ اور ان کے چلنے کی اجازت دینے والے ذمہ دار کون ہیں؟ یہ محض لاپرواہی نہیں، بلکہ مجرمانہ بے حسی ہے  ایسی بے حسی جو برسوں سے انتظامیہ اور حکومت دونوں کی آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے ہے۔ اب تحقیقاتی کمیٹیاں نہیں، عملی اقدامات درکار ہیں۔


ہر بڑے سانحے کے بعد ایک ہی روایت دہرائی جاتی ہے۔ ڈرائیور گرفتار، کمیٹی تشکیل اور پھر سب بھلا دیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ تحقیقاتی رپورٹیں انیقہ کو واپس نہیں لا سکتیں۔ اصل ضرورت ہے ذمہ داری کے تعین اور ادارہ جاتی اصلاحات کی۔ یعنی کمیٹیاں نہیں انصاف چاہیےرپورٹیں نہیں نتائج چاہیے۔ اب عملی فیصلوں کا وقت ہےاس سانحے کے بعد محض افسوس کافی نہیں۔حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ کراچی انتظامیہ کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
تمام خستہ حال پوائنٹ بسوں کو فوراً بند کیا جائے۔ محفوظ، جدید اور فٹنسسرٹیفائیڈ ٹرانسپورٹ سروس فراہم کی جائے۔ ذمہ دار افسران اور نگران عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
تمام یونیورسٹیوں میں سالانہ “سیفٹی آڈٹ” لازمی قرار دیا جائے
اگر ہم اب بھی خاموش رہے تو اگلی خبر کسی اور انیقہ کے بارے میں ہوگی۔وقت آ گیا ہے کہ ہمارا نظام جاگے، اپنی ترجیحات درست کرے،
اور یہ ثابت کرے کہ طلبہ کی زندگی اس کے لیے محض ایک نمبر نہیں۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ روشنی واپس لانی ہے یا اندھیرا قبول کرنا ہے۔

Previous Post

پہلی پاکستانی خاتون ریسنگ ڈرائیور عرشیہ اختر کی عالمی موٹر اسپورٹس میں انٹری

Next Post

میں جنگیں ختم کرنے میں ماہر ہوں، نوبل نہیں، انسانیت میری منزل ہے

Next Post
ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: "غزہ میں جنگ بندی آئندہ ہفتے ممکن”

میں جنگیں ختم کرنے میں ماہر ہوں، نوبل نہیں، انسانیت میری منزل ہے

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist