مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی اور جارحیت کے بعد پاکستان نے جوابی اقدامات کے طور پر اپنی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بند کر دی۔ یہ اقدام ماضی میں 2019 کی طرح ایک بار پھر بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری پر بھاری پڑ رہا ہے۔
ایئر انڈیا پر براہِ راست اثر:
-
دہلی سے واشنگٹن جانے والی نان اسٹاپ پرواز یکم ستمبر 2025 سے بند کر دی گئی۔
-
فضائی حدود کی بندش کے باعث پروازوں کا روٹ لمبا ہو گیا، جس سے فلائٹ ٹائم 14 گھنٹوں سے بڑھ کر تقریباً 18 گھنٹے ہو گیا۔
-
اس اضافی دورانیے سے ایندھن کا خرچ بڑھا، اور بعض روٹس پر طیاروں کو اضافی ری فیولنگ اسٹاپ لینا پڑا۔
دیگر ایئرلائنز بھی متاثر:
صرف ایئر انڈیا ہی نہیں بلکہ وِستارا اور انڈیگو جیسی بھارتی نجی ایئرلائنز کے بین الاقوامی روٹس بھی متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کی فلائٹس۔
معاشی نقصان:
-
ایندھن کے اضافی خرچ اور طیاروں کی محدود دستیابی سے ٹکٹ کے نرخ بڑھ گئے۔
-
کچھ مسافروں نے براہِ راست پروازوں کے بجائے خلیجی ممالک کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹس لینا شروع کر دیں، جس سے بھارتی ایئرلائنز کا مارکیٹ شیئر کم ہونے کا خدشہ ہے۔
سفارتی پہلو:
ایوی ایشن تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بندش جلد ختم ہونے کے امکانات کم ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔بین الاقوامی حلقوں میں اس صورتحال کو مودی سرکار کی ناکام سفارت کاری اور علاقائی تنہائی سے جوڑا جا رہا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ:
اگر فضائی حدود کی بندش ایک سال تک جاری رہی تو بھارتی ایئرلائنز کو اربوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے، اور بھارت کی "ایوی ایشن ہب” بننے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔







Discussion about this post