پاکستانی سکیورٹی اداروں نے تلہ گنگ سے ایک افغان شہری کو گرفتار کیا ہے جس کے اعترافی بیان کے مطابق اس کے مبینہ طور پر ایک دہشت گرد نیٹ ورک سے روابط تھے۔ گرفتار شخص نے اپنا نام قاسم عرف حسن اور والد کا نام لال خان بتایا ہے۔ اس کے مطابق اس کا تعلق افغانستان کے علاقے گردیز سے ہے اور وہ تقریباً دس سال قبل اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان آیا تھا۔ ملزم نے دعویٰ کیا کہ 2025 میں سرہ درگہ کے مقام پر اس کی ملاقات ایک طالبان کمانڈر، جسے وہ ’’ارمانی‘‘ کے نام سے جانتا ہے، سے ہوئی جس نے اسے شدت پسند تنظیم میں شمولیت کی دعوت دی۔ اس کے بعد وہ کچھ عرصہ تنظیم کے ساتھ وابستہ رہا اور بعض افراد کو تنظیم کے لیے بھرتی کرنے کا بھی اعتراف کیا۔ گرفتار شخص کے بیان کے مطابق اسے پنجاب بھیجا گیا جہاں مزید افراد تلاش کرنے تھے، تاہم اسی دوران پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق زیرِ حراست شخص سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے اعترافی ویڈیو بیان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں غیرملکی عناصر کے مبینہ استعمال کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پاکستانی حکام پہلے بھی متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ سرحد پار سے دہشت گردی کی معاونت پاکستان کے لیے ایک سنگین سکیورٹی مسئلہ ہے۔







Discussion about this post