افغان طالبان نے پاکستان کی طرف بہنے والے کنڑ دریا پر ڈیم بنانے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے خطے میں پانی کی جنگ کا نیا در کھول دیا۔ طالبان کے قائم مقام وزیرِ توانائی و آب ملا عبد اللطیف منصور کے مطابق یہ حکم براہِ راست سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے جاری کیا، جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ منصوبہ مقامی کمپنیوں کے ذریعے بغیر کسی تاخیر کے شروع کیا جائے، تاکہ افغانستان اپنا آبی نظم و نسق خود سنبھال سکے۔ کنڑ دریا جو پاکستان کے ضلع چترال سے نکل کر افغان صوبوں سے گزرتا ہوا دوبارہ پاکستان کے دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے . زرعی آبپاشی، پینے کے پانی اور بجلی کی پیداوار کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ ڈیم اپنے تکمیل تک پہنچ گیا تو خیبرپختونخوا اور پنجاب کے وسیع علاقے پانی کی شدید کمی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جس سے زرعی اور معاشی بحران گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔طالبان کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سرحدی کشیدگی پہلے ہی نقطۂ عروج پر ہے۔ اس اعلان کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بعد اختیار کی گئی حکمتِ عملی کی بازگشت قرار دیا جا رہا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم پر نہ کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود ہے اور نہ ہی اعتماد پر مبنی مذاکرات کا کوئی راستہ کھلا ہے، ایسے میں یہ اقدام نئے تنازع کی بنیاد بن سکتا ہے۔ سابق صوبائی وزیر جان اچکزئی پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ کنڑ پر یک طرفہ تعمیرات پاکستان کے خلاف "خاموش دشمنی” تصور کی جائیں گی، جو مستقبل میں شدید نوعیت کے سفارتی بحران اور ممکنہ تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ افغان وزیرِ توانائی نے واضح کیا کہ دریائے کنڑ پر ڈیم بنانا طالبان حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اگر "آج نہیں تو کبھی نہیں” کے مصداق یہ موقع ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سوا افغانستان کا کسی بھی ہمسائے سے پانی پر کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں، اس لیے دیگر سمتوں میں ڈیم سازی پر کوئی قدغن نہیں مانی جائے گی۔ پاکستان کے لیے پانی کا یہ فیصلہ مستقبل کے تعلقات، سرحدی امن، اور خطے کی زرعی سلامتی — تینوں کو بیک وقت ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کر رہا ہے۔







Discussion about this post