لاہور میں مقیم تمام غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لیے آپریشن نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ عمل اب ’آخری مرحلے‘ میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کامیانہ نے حکم دیا ہے کہ تمام غیر دستاویزی افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جائے ,سوائے ان کے جو درست ویزوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ بلال صدیق کامیانہ نے منگل کو اعلیٰ پولیس افسران کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں افغان شہریوں کی ملک بدری کے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف کارروائی اور غیر رجسٹرڈ اسلحہ کی ایک ماہ کے اندر رجسٹریشن کے لیے خدمت مراکز کو بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق:
-
پہلا مرحلہ: تین برس قبل غیر قانونی افغان شہریوں کو ملک بدر کیا گیا، صرف وہ افراد رہنے دیے گئے جن کے پاس POC، ACC یا POR کارڈ تھا۔
-
دوسرا مرحلہ: اُن افغان باشندوں کو قیام کی اجازت دی گئی جن کے کارڈز حکومت نے پالیسی کے تحت توسیع کیے تھے، باقی کو ملک بدر کیا گیا۔
-
تیسرا اور آخری مرحلہ (موجودہ): اب صرف جائز ویزا رکھنے والے افغان شہری قیام کر سکیں گے، باقی تمام کی ملک بدری کی جائے گی۔
لاہور پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، افغان شہریوں کی واپسی اور غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف اقدامات پر غور کیا گیا۔
سی سی پی او نے ایس پیز کو ہدایت کی کہ وہ قریبی رابطہ کاری کے ذریعے آپریشن کی موثر نگرانی کریں اور حکومتی فیصلے پر بلا تاخیر عمل یقینی بنائیں۔بلال صدیق کامیانہ نے واضح کیا کہ:
“ہم حکومت کی ہدایات کے مطابق غیر دستاویزی افغان باشندوں کی واپسی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔”
انہوں نے غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنے اور عوامی مقامات پر اسلحہ کی نمائش کے خلاف فوری کارروائی کی بھی ہدایت دی۔







Discussion about this post