امریکی جریدے یوریشیا ریویو نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے تانے بانے براہِ راست افغان سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے امن و استحکام سے متعلق دعوے قابلِ اعتبار نہیں رہے، کیونکہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ان دعوؤں کی حقیقت خود بے نقاب کر دیتی ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق ورلڈ بینک کی رپورٹس بھی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی معیشت محض بقاء کی سطح پر چل رہی ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برانڈنگ اور زمینی حقائق کے درمیان سب سے گہرا خلا حکمرانی کے شعبے میں نظر آتا ہے۔ یوریشیا ریویو نے مزید انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں فوجداری ضابطے کے تحت تشدد اور خوف کو عملاً ریاستی پالیسی کی صورت دے دی گئی ہے، جس سے انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھی عالمی جریدہ یوریشیا ریویو سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کر چکا ہے، جہاں افغان طالبان کو عالمی سلامتی کے لیے ایک ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ یوریشیا ریویو اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے مستقل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔







Discussion about this post