افغانستان نے بھی بھارت کی راہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان میں مجوزہ سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز سے دستبرداری کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ ہفتوں کے دوران غیر معمولی تناؤ اور سفارتی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے اثرات کھیل کے میدان تک پہنچ گئے ہیں۔افغان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ موجودہ حالات اور سرحدی تنازعات کے باعث پاکستان میں شیڈول میچز کھیلنا ممکن نہیں رہا۔ اسی بنا پر بورڈ نے پاکستان کے خلاف طے شدہ تمام میچز منسوخ کر دیے ہیں اور ٹیم کی سہ ملکی سیریز سے عدم شرکت کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

یاد رہے کہ نومبر میں پاکستان، سری لنکا اور افغانستان کے مابین سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز طے تھی، جس کا پہلا میچ 17 نومبر کو راولپنڈی میں پاکستان اور افغانستان کی ٹیموں کے درمیان ہونا تھا۔ 19 نومبر کو اسی مقام پر سری لنکا اور افغانستان آمنے سامنے آنے والے تھے، جبکہ باقی پانچ میچز لاہور میں شیڈول تھے۔ فائنل 29 نومبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں رکھا گیا تھا۔افغانستان کی دستبرداری کے بعد سیریز کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اب متبادل شیڈول، نئے فارمیٹ یا کسی دوسری ٹیم کو شامل کرنے کے آپشنز پر غور کرے گا، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔سیاسی تنازعات کا کھیل پر اثر پہلی بار نہیں ہوا، مگر افغانستان کی بھارت کی طرح یہ کھیل سے کھلوارڑ ایک اہم عالمی سیریز کے انعقاد کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جس سے خطے میں کرکٹ ڈپلومیسی کی کوششوں کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔ اُدھرپاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سہ فریقی سیریز اپنے شیڈول کے مطابق ہوگی۔ترجمان پی سی بی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے ٹرائی سیریز سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ٹرائی سیریز میں پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تیسری ٹیم کا آپشن دیکھا جا رہا ہے اور انتظامات جاری ہیں۔ اس حوالے سے فیصلہ بہت جلد کردیا جائے گا۔







Discussion about this post