مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک بار پھر علاقائی سلامتی کے تناظر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ اگر معاہدے میں شامل تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت سے ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال، یمن سے ہونے والے حملوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون نے اجتماعی سلامتی کے سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
حملے کی صورت میں فیصلہ کیسے ہوگا؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کی صورت میں فوری طور پر کسی ایک ملک کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کا طریقہ کار بیان نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے تینوں ممالک صورتحال کا مشترکہ جائزہ لیں گے اور باہمی مشاورت کے بعد ردعمل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ فوجی یا دفاعی ردعمل کی نوعیت حالات، حملے کی نوعیت اور تینوں ممالک کے مشترکہ فیصلے پر منحصر ہوگی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بھی واضح کیا کہ دفاعی معاہدوں میں عملی فوجی کارروائیوں سے متعلق تفصیلات عام طور پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاتیں کیونکہ ان میں حساس سکیورٹی اور آپریشنل معلومات شامل ہوتی ہیں۔
مکہ معاہدہ صرف ایک فوجی اتحاد ہے؟
ترجمان پاک فوج کے مطابق مکہ معاہدے کی بنیادی نوعیت دفاعی ہے۔ اس کا مقصد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی صلاحیت اور تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ تینوں ممالک خطے میں مختلف نوعیت کی دفاعی اور سکیورٹی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک بڑی فوجی قوت اور دفاعی تجربہ ہے، سعودی عرب خطے میں ایک اہم سکیورٹی اور معاشی طاقت ہے، جبکہ ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی صنعت اور عسکری صلاحیتوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
تاہم مکہ معاہدے کو ان ممالک کے دوسرے بین الاقوامی تعلقات کا متبادل قرار نہیں دیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے آزادانہ تعلقات بھی برقرار رکھیں گے۔
یمن اور سعودی عرب کی سکیورٹی صورتحال
مکہ معاہدے پر بحث اس وقت مزید اہم ہوگئی ہے جب سعودی عرب کو یمن سے متعلق سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔
سعودی سرزمین یا تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کی صورت میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کس مرحلے پر مشاورت کریں گے اور ممکنہ ردعمل کس نوعیت کا ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت سے کم از کم یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاہدے میں کسی رکن ملک کی سلامتی سے متعلق صورتحال کو تینوں ممالک کے مشترکہ مشاورتی عمل کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
تاہم عملی فوجی کارروائی کے مخصوص طریقہ کار کو عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا۔
پاکستان کا دفاعی مؤقف
انٹرویو میں پاکستان کی مجموعی دفاعی پالیسی پر بھی بات کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کو کسی اسلحہ کی دوڑ کا حصہ نہیں سمجھتا۔
ان کے مطابق پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد ملکی دفاع ہے اور پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت پر اعتماد رکھتا ہے اور جارحیت کی صورت میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ مؤقف پاکستان کی جانب سے ماضی میں بیان کیے جانے والے اس اصول سے مطابقت رکھتا ہے کہ ملکی دفاع اور علاقائی سلامتی کو بنیادی ترجیح حاصل ہے، جبکہ جنگ اور کشیدگی سے گریز کی بات بھی کی جاتی ہے۔
بھارت کا حوالہ کیوں اہم ہے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انٹرویو میں بھارت کی فوجی صلاحیتوں اور دفاعی اخراجات کا بھی حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر ملکی دفاع کے لیے استعمال کرتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے موجود سکیورٹی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کی دفاعی پالیسیوں پر ہونے والی گفتگو خطے کے مجموعی تزویراتی ماحول سے جڑی رہتی ہے۔
افغانستان بھی گفتگو کا اہم حصہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے طالبان حکومت پر ایسے عناصر کی تربیت کا الزام بھی عائد کیا جو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ پاکستان مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ اس معاملے پر پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان اختلافات علاقائی سلامتی کے مباحث کا اہم حصہ ہیں۔
سیاسی فیصلے اور فوجی کردار
انٹرویو میں سیاسی اور فوجی اہداف سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملک کے سیاسی مقاصد کا تعین سیاسی قیادت کرتی ہے۔ ان کے مطابق ریاستی اور فوجی مقاصد ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں جبکہ قومی اہداف اور ترجیحات کا تعین سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔






Discussion about this post