کراچی میں صحافی، ڈیجیٹل انوویٹرز، سول سوسائٹی کے نمائندے اور امریکی ایکسچینج پروگرام کے المنائیز اوپن وائسز کانفرنس کے لیے جمع ہوئے تاکہ صحافت، ڈیجیٹل جدت، مصنوعی ذہانت، میڈیا انٹرپرینیورشپ اور معتبر معلومات میں ابھرتے ہوئے رجحانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
کانفرنس کا موضوع”پاکستان میں میڈیا، مکالمہ اور ڈیجیٹل جدت کو مضبوط بنانے” تھا۔ یہ کانفرنس پاکستان-امریکہ المنائی نیٹ ورک (PUAN) کے تعاون سے منعقد ہوئی، جس کا اہتمام جی این ایم آئی کی صدر اور ایسٹ ویسٹ سینٹر کی المنائی ناجیہ اشعر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کیا۔ ناجیہ اشعرنے کانفرنس کا آغاز اوپن وائسز انیشی ایٹو اور اس کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر کیا۔ انہوں نے پراجیکٹ کے المنائی اور میڈیا پروفیشنلز کے ساتھ کام کرنے اور صحافت، ڈیجیٹل اسٹوریز سنانے اور میڈیا میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر توجہ کو اجاگر کیا۔
امریکی قونصل جنرل کراچی میں المنائی افیئرز کی مینیجر فریحہ فاطمہ نے بھی شرکاء سے خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ المنائی اپنے پیشہ ورانہ تجربے، نیٹ ورکس کو استعمال کر کے اپنے متعلقہ شعبوں میں بامعنی خدمات انجام دیں۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز کی پارلیمانی سیکرٹری انجینئر صبین غوری نے پاکستان کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے اور ٹیکنالوجی کے میڈیا اور معلوماتی پلیٹ فارمز کی تشکیل کے باعث ابھرنے والے مواقع و چیلنجز پر بات کی۔
کانفرنس کا ایک اہم جز اس گرانٹ کے تحت تیار کردہ پوڈکاسٹ ٹیزرز اور وضاحتی ویڈیوز کی اسکریننگ بھی تھی۔ اس ڈیجیٹل مواد میں دکھایا گیا کہ ڈیجیٹل فارمیٹس کو پیچیدہ مسائل کو قابل رسائی اور دلچسپ انداز میں بیان کرنے اور بدلتے ہوئے ڈیجیٹل معلوماتی منظرنامے پر عملی نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے اسے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پینل ڈسکشن بھی کانفرنس کا حصہ تھی جس میں "شور کے دور میں سچائی: پاکستان کے بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے میں اخلاقی اور معتبر صحافت” کے موضوع پر بات کی گئی۔ پینل میں سینئر صحافی مظہر عباس، عافیہ سلام، وسعت اللہ خان اور ٹائمز آف کراچی کے شریک بانی ارسلان علی شامل تھے۔ بحث کی میزبانی سینئر صحافی لبنی جرار نقوی نے کی۔
پینلسٹس نے میڈیا انٹرپرینیورشپ اور صحافیوں کے لیے ابھرتے ہوئے مواقع، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ترقی اور مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے میڈیا پروڈکشن اور پیشہ ورانہ ورک فلو میں بڑھتی ہوئی شمولیت کے ساتھ جوابدہی برقرار رکھنے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔
بحث میں یہ بھی جائزہ لیا گیا کہ صحافی اور میڈیا پروفیشنلز کیسے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیار کر سکتے ہیں اور صحافتی معیار اور ناظرین کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے نئے پیشہ ورانہ اور کاروباری مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔
سوال و جواب کے سیشن نے شرکاء کو پینلسٹس کے ساتھ براہ راست مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل جدت، میڈیا انٹرپرینیورشپ اور پاکستان کے معلوماتی منظرنامے کو متاثر کرنے والی پیش رفت پر بات چیت کرنے کا موقع دیا۔
کانفرنس کا اختتام شرکاء کو دیگر میڈیا پروفیشنلز، المنائی اور ماہرین سے جوڑ کر اور صحافت، ڈیجیٹل جدت اور میڈیا انٹرپرینیورشپ کے حوالے سے پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور ممکنہ تعاون کے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت اجاگر کرنے سے ہوا۔






Discussion about this post