خطے کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بھاری ہو گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک سوچی سمجھی چال قرار دے دیا ہے۔ مشیر نے اپنے بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی آڑ میں وقت حاصل کر کے بالآخر ایران پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی کو جاری رکھنا اپنے اثرات کے اعتبار سے بمباری سے کم نہیں، اور یہ توسیع یک طرفہ اور مسلط کردہ ہے جسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک پرجوش بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایرانی افواج مکمل ہائی الرٹ پر ہیں اور ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سو فیصد تیار ہیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری، بھرپور اور طے شدہ اہداف پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں دعوے کیے کہ ایران کی جوہری طاقت، بحریہ اور فضائیہ کو پہلے ہی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت امریکی کنٹرول میں ہے اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ پانچ سو ملین ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور دنیا سانس روکے یہ دیکھ رہی ہے کہ اگلا قدم کون اٹھاتا ہے۔







Discussion about this post