ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کی سہولت کاری کو عالمی سطح پر زبردست سراہا گیا ہے۔ سفارتی حلقوں نے پاکستان کے تعمیری، ذمہ دارانہ اور استحکام پیدا کرنے والے کردار کی کھل کر تحسین کی۔ ترجمان کے مطابق اسلام آباد، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مسلسل اور موثر پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ پاکستان اس پورے حساس عمل میں بطور فعال سہولت کار اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر نے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ کل چیف آف ڈیفنس فورسز کے تہران پہنچنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات سے قبل اور بعد میں وزیراعظم نے قطر، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، جاپان، کینیڈا سمیت متعدد اہم ممالک کے رہنماؤں سے رابطے کیے، جن سب نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔ یہ تاریخی مذاکرات تقریباً اکیس گھنٹے جاری رہے جبکہ مجموعی مصروفیات تیس گھنٹے تک جاری رہیں۔
🔴LIVE: Spokesperson’s Weekly Press Briefing 16-04-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/tEGWng71Wf
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 16, 2026
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک تین ممالک کے سرکاری دورے پر ہیں اور ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ گزشتہ رات سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران بھی مذاکراتی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کا کردار ہمیشہ متوازن اور تعمیری رہا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ہم نے "نہ کوئی بڑی پیش رفت، نہ کوئی ناکامی” کے اصول پر عمل کیا۔ عمل کی حساسیت کے پیش نظر تمام معلومات کو رازداری میں رکھا گیا، تاہم میڈیا کو بھی مناسب طور پر آگاہ کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں فریقین مذاکرات کے لیے مکمل طور پر آمادہ ہیں۔ اگلے مراحل کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی پیش رفت بتانا قبل از وقت ہوگا۔ لبنان میں سیز فائر، جوہری مسائل اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی بات کی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کے لیے مذاکرات کا تسلسل ناگزیر ہے۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے پائے۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے بھارت کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سمجھوتہ ایکسپریس کیس، کشمیر میں جاری واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے بھارت کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔







Discussion about this post