سعودی عرب نے ایک بار پھر پاکستان کی معاشی مضبوطی کا سب سے بڑا ثبوت دیا ہے۔ مملکت نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی منظوری دے دی ہے، جبکہ موجودہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو طویل مدت کے لیے مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر یہ خوشخبری دی۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی یہ رقم اگلے ہفتے پاکستان پہنچ جائے گی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ سعودی عرب کا 5 ارب ڈالر کا پرانا ڈپازٹ اب سالانہ رول اوور کی پابندی سے آزاد کر دیا گیا ہے اور اسے طویل مدتی بنیاد پر مستقل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے اور بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے کے لیے نہایت اہم وقت پر آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت زرمبادلہ ذخائر کو 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم رکھتی ہے، جو تقریباً ساڑھے تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہوں گے۔ گزشتہ ہفتے 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی کامیاب ادائیگی کو بھی انہوں نے "نان ایونٹ” قرار دیا اور کہا کہ حکومت تمام بیرونی واجبات بروقت پورا کر رہی ہے۔

اس اہم اعلان سے قبل وزیر خزانہ نے سعودی وزیر خزانہ محمد بن الجدان سے تفصیلی ملاقات کی۔ انہوں نے سعودی قیادت، بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیر اعظم، فیلڈ مارشل آصف علی زرداری، نائب وزیر اعظم، اسٹیٹ بینک کے گورنر اور خزانہ سیکرٹری سمیت پوری معاشی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت اعتماد اور مثبت تاثر کی ہے۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور دوست ممالک کی طرف سے غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ حکومت گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور پانڈا بانڈ کے اجرا کے ذریعے فنڈنگ کے ذرائع کو مزید متنوع بنانے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ سعودی عرب کا تعاون نہ صرف معاشی استحکام کی طرف ایک بڑا قدم ہے بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار تعلقات کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔







Discussion about this post