اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو غیر معمولی پیش رفت قرار دیتے ہوئے وینس نے کہا کہ بات چیت تعمیری ماحول میں ہوئی اور کئی اہم معاملات پر نمایاں اتفاق رائے پیدا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات اپنی نوعیت کے لحاظ سے تاریخی تھی، کیونکہ موجودہ ایرانی قیادت کے دور میں اس سطح کے رابطے نادر ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ تاہم، اب اگلے لائحہ عمل کا دارومدار مکمل طور پر تہران کے فیصلوں پر ہے۔ جے ڈی وینس نے واضح پیغام دیا کہ ایران کو اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ امریکا کا سب سے اہم اور غیر متزلزل اصول یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، اور واشنگٹن کی پوری پالیسی اسی ایک نکتے کے گرد گھومتی ہے۔ نائب صدر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کی لائف لائن ہے۔ امریکا توقع رکھتا ہے کہ ایران اس حساس گزرگاہ کو کھلا، محفوظ اور ذمہ دارانہ طور پر چلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔مذاکرات ابھی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، مگر سفارتی عمل تاحال جاری ہے اور مستقبل کا رخ تہران کے اگلے قدموں پر منحصر ہے۔
“We’ve made clear that we absolutely need to see the nuclear material come out of the country of Iran…the ball is in the Iranians’ court because we put a lot on the table.” — VP Vance pic.twitter.com/s4Ki2HqL4U
— Vice President JD Vance (@VP) April 14, 2026







Discussion about this post