پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا شاندار کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میز اب اسلام آباد میں سجی ہے۔ایرانی وفد جمعہ کو اسلام آباد پہنچ رہا ہے جس کی قیادت اسپیکر قومی مجلس باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی طاقتور مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیج دی ہے، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کو ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ ایران نے یورینیم حوالے کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں دو بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ کم کرنے اور خطے میں امن کی نئی صبح طلوع ہو سکتی ہے۔

سیکیورٹی کے فولادی انتظامات اور دو روزہ تعطیل
غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں جمعرات اور جمعہ کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق آج سرکاری دفاتر مکمل طور پر بند رہیں گے اور تمام سرکاری افسران ورک فرام ہوم کریں گے۔ وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن بھی دو روز بند رہیں گے۔ ریڈ زون کو پرائیویٹ گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایکسپریس ہائی وے پر ڈائیورشنز لگائے جا رہے ہیں اور ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ریڈ زون اور اس کے آس پاس کا سفر نہ کریں۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے بھی نو اور دس اپریل کو عام تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ یہ تاریخی مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔ اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جہاں امن کی امید کی نئی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔







Discussion about this post