سندھ حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے ایک اور بڑا اور عملی ریلیف پیکج پیش کر دیا ہے۔ سینئر وزیر شرجیل میمن نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن شہریوں کے نام پر صرف ایک موٹر سائیکل ہوگی، انہیں ماہانہ دو ہزار روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں اس وقت 67 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں اور رجسٹریشن کے عمل میں 15 ہزار سے زائد لوگوں نے اپنے کوائف جمع کرا دیے ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑا ہے، اس لیے سندھ حکومت نے 35 ارب روپے کا جامع ریلیف پیکج جاری کیا ہے۔ اس پیکج میں ترجیحی طور پر کسانوں کو بھی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جن کے پاس 25 ایکڑ سے کم زمین ہے، انہیں فی ایکڑ 1500 روپے دیے جا رہے ہیں۔ سندھ اس وقت واحد صوبہ ہے جو پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو بھی سبسڈی فراہم کر رہا ہے۔ وزیر نے عوام کو یقین دلایا کہ اپریل کے مہینے میں تمام مستحق موٹر سائیکل سواروں کو دو ہزار روپے ماہانہ سبسڈی بروقت ادا کر دی جائے گی۔ دوسری جانب وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ نے بتایا کہ اب تک 2800 سے زائد موٹر سائیکل مالکان کے بینک اکاؤنٹس میں سبسڈی کی رقم منتقل کر دی گئی ہے۔ جن کے اکاؤنٹس سندھ بینک میں ہیں، انہیں فوری طور پر رقم مل گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں 80 فیصد موٹر سائیکلیں اصل مالکان کے نام پر رجسٹرڈ ہیں جبکہ 30 سے 35 لاکھ موٹر سائیکلیں ابھی لوگوں کے نام منتقل کی جا چکی ہیں۔ مکیش کمار چاؤلہ نے منشیات کے خلاف جاری مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاک بحریہ کے ساتھ مل کر صوبے میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ نیول انٹیلی جنس کی اطلاع پر جیکب آباد میں 40 کلو چرس برآمد کی گئی ہے۔







Discussion about this post