امریکی فوجی تاریخ کا ایک یادگار موڑ آ گیا ہے، جہاں فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج نے فوری طور پر عہدہ چھوڑ کر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ امریکی محکمۂ دفاع نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنرل رینڈی اب امریکی فوج کے اکتالیسویں چیف آف سٹاف کے منصب سے الگ ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب کرج شہر کو تہران سے جوڑنے والے اس عظیم الشان پل پر امریکی حملے نے آٹھ معصوم جانیں نگل لیں، مگر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا بیان دنیا کو حیران کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ سویلین مقامات اور زیرِ تعمیر پلوں پر کیے گئے حملے ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر ہرگز مجبور نہیں کر سکتے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے جنرل رینڈی جارج کو براہِ راست حکم دیا کہ وہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں اور ریٹائر ہو جائیں، جس سے فوجی قیادت میں ایک طوفان سی اٹھ کھڑا ہوا۔ ذرائع کے مطابق پیٹ ہیگسیٹھ ایک ایسے کمانڈر کو اس اہم ترین عہدے پر لانا چاہتے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دفاعی پالیسی کے ہر نقطے کو بے مثال جوش و جذبے سے نافذ کر سکے۔ ایک اعلیٰ دفاعی عہدیدار نے جذباتی انداز میں کہا کہ جنرل جارج کی خدمات لازوال ہیں، مگر اب قیادت کی تبدیلی کا وہ لمحہ آ پہنچا ہے جو تاریخ بدلنے والا ثابت ہوگا۔ جنرل رینڈی جارج ایک دبنگ انفنٹری افسر رہے ہیں، یو ایس ملٹری اکیڈمی کے شاندار فارغ التحصیل، جنہوں نے پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی میدانِ جنگ میں بہادری کی داستانیں رقم کیں۔

سابق صدر جو بائیڈن نے انہیں 2023 میں اس عہدے کے لیے منتخب کیا تھا اور ان کی مدتِ عہد 2027 تک متوقع تھی. آرمی کے موجودہ وائس چیف آف سٹاف جنرل کرسٹوفر لانیو کو عبوری چیف کا اعزاز دیا جا رہا ہے، جو ایک تجربہ کار اور بے مثال رہنما ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان نے انہیں ایک ایسا قابلِ اعتماد کمانڈر قرار دیا جو موجودہ انتظامیہ کے وژن کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اسے میدانِ عمل میں بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ فیصلہ بالکل اس وقت سامنے آیا ہے جب پیٹ ہیگسیٹھ نے پہلے ہی درجنوں سینئر فوجی افسروں کو عہدوں سے الگ کیا ہے، جن میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین سی کیو براؤن اور نیول آپریشنز کی سربراہ لزا فرانچیٹی جیسے نامور کمانڈر شامل ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ جنرل جارج کو ہٹانے کا یہ اقدام حالیہ ہیلی کاپٹر واقعے سے قطعاً غیر متعلق ہے، بلکہ یہ وسیع تر قیادت کی تبدیلی کی اس عظیم پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکی فوجی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔







Discussion about this post