امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی دو سے تین ہفتوں میں مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب ایران میں مزید رکنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ ممکن ہے یہ جنگ دو سے تین ہفتوں سے بھی پہلے اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی ڈیل یا معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رجیم چینج کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، تاہم یہ امریکا کا بنیادی مقصد کبھی نہیں تھا۔ اصل ہدف ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا، اور وہ ہدف مکمل طور پر حاصل کر لیا گیا ہے۔ نئی قیادت پرانی شدت پسندی سے کہیں زیادہ معتدل اور حقیقت پسند ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں پندرہ سے بیس سال لگ سکتے ہیں۔ اس وقت ایران کے پاس نہ کوئی مؤثر نیوی ہے، نہ منظم فوج اور نہ ہی کوئی طاقتور ایئر فورس۔ صدر ٹرمپ نے آئنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس سٹریٹ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس سے امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں۔ اگر فرانس، چین یا دیگر ممالک کو تیل کی ضرورت ہے تو وہ خود وہاں جائیں اور اپنا تیل لے جائیں۔ ان ممالک کو اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔ امریکی صدر کل رات امریکی قوم سے براہ راست خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اور تاریخی اعلانات متوقع ہیں۔







Discussion about this post