برطانیہ نے ایک بار پھر اپنی آزادانہ اور پرعزم خارجہ پالیسی کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی بھی زمینی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، اور ہم اس میں الجھنے والے نہیں۔ سٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو ڈونلڈ ٹرمپ کی اس جنگ میں نہیں دھکیلا جا سکتا۔ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے اور کسی کی مرضی پر نہیں چلیں گے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ برطانیہ دفاعی اقدامات کو جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی راہیں محفوظ رہیں۔ دوسری جانب اسپین نے بھی ایک حیران کن اور جرأت مندانہ قدم اٹھایا ہے۔

اسپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلیس نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران پر حملہ کرنے والے امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ مشترکہ فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینے والے پچھلے موقف سے بھی آگے کا ایک بولڈ اور واضح پیغام ہے۔ اسپین کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا سہولت فراہم نہیں کرے گی۔ یہ دونوں بڑی یورپی طاقتوں کے فیصلے عالمی منظر نامے پر ایک نیا رنگ بھر رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں امریکہ اپنی حکمت عملی پر قائم ہے، تو دوسری طرف یورپ کے اہم ممالک اپنی خودمختاری اور امن کی ترجیح کو نمایاں کر رہے ہیں۔ یہ لمحات تاریخ کے ان صفحات میں درج ہونے والے ہیں جو آنے والی نسلوں کو بتائیں گے کہ طاقت کے توازن میں جرأت اور اصول کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔







Discussion about this post